نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

religion لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

Jainism

According to Jainism's own belief, it is an eternal religion, which has always existed. In Indian traditions since the world has no beginning or end. Therefore, in this sense, Jainism has always been and always will be. In each era, from time to time, twenty-four arrow thinkers (reformers) were born and worked to revive it. The last arrow was Thinker Mahavir Jain, after him no other reformer will come.         There is historical evidence that Mahavira Jain was not the founder of this religion. This tradition already existed in India. Mahavira's own family and even his entire community were followers of Jainism. Mahavira achieved the highest goal of Jainism through Sanyas and became the head of this religion.Mahavira's reforms in Jainism in the light of his experiences and observations, and the steps he took as the last arrow-thinker for its publication and consolidation, gave Mahavira the important position to be considered ...

جین مت کے پانچ بنیادی عہد

          (۱) اہنسا، (عدم تشدد)  (۲) ستیہ، (راست گفتاری) (۳) استیہ، (چوری نہ کرنا) (۴) برہمچریہ ( پاک دامنی) (۵) اپری گرہ (دنیا سے بے رغبتی)۔ ان پانچ بنیادی عہدوں کے علاوہ گھر بار رکھنے والے جینیوں کو سات اور عہد کرنے ہوتے ہیں، جو انہیں بنیادی عہدوں پر عمل کرنے مین معاون ہوتے ہیں۔          جین مت میں وہ جماعت جو جین سنگھ کہلاتی ہے، اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہوتے ہیں۔ مردوں کو سادھو اور عورتوں کو سادھوی کہا جاتا ہے۔ دونوں کو برہمچریہ کی بہت سخت پابندی کرنی ہوتی ہے۔ مردوں اور عورتوں کی جماعتیں کے نظام الگ الگ ہوتے ہیں۔ سنیاس کی ابتداء جین مت کے پانچ بنیادی عہدوں کی شکل میں لینے سے ہوتی ہے۔ پھر تمام دنیا سے ناطہ توڑ کر بے رغبتی کے ساتھ چند ضروری چیزوں کے علاوہ سب کچھ چھوڑ دینا پڑتا ہے۔ مرد سادھو بغیر سلے تین کپڑے اور عورتوں کو چار کپڑے پہننے کی اجازت ہے۔ یہ اجازت بھی صرف شؤتامبر فرقہ کے سادھوؤں کو حاصل ہے۔ اس لئے کہ دگامبر فرقہ کے سادھو تو بالکل ننگے رہتے ہیں اس فرقہ میں عورتوں کو سنیاس لینے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے ع...

مہابھارت

   رامائن اور مہابھارت یہ دونوں رزمیہ نظمیں در اصل زیادہ طویل اور مختلف قسم کے کردار رکھنے والی تصانیف ہے۔ ویدوں سے مختلف، سنسکرت میں لکھی کوئ یہ طویل نظم اپنے دور کے ہندستان کی بھر پور عکاسی کرتی ہے۔اس نظم کا مرکزی حصہ راجا بھرت کے اخلاق کورؤں اور پانڈؤں کے درمیان تخت نشیبی کی جنگ سے متعلق ہے، نیز اس کتاب میں بہت سی غیر متعلق روایات اور دوسرے قصے اور واقعات بھی موجود ہیں۔ یہ نظم قدیم ہندستان سے متعلق معلومات کا خزانہ کہی جا سکتی ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نظم کے مرکزی واقعات میں برابر اضافے ہوتے رہے، قدیم ہندستان کے اور بھی بہت سے رائج قصوں اور روایات کو اس میں جگہ دی جاتی رہی، اس طرح اس میں تقریبا ایک لاکھ اشعار جمع ہو گئے۔ رامائن کے مقابلہ میں مہابھارت زیادہ قدیم ماحول کی عکاسی کرتی ہے۔

جین ‏مت

    جین مت کے اپنے عقیدہ کے مطابق، یہ ایک ابدی مذہب ہے، جو ہمیشہ سے چلا آرہا ہے۔ ہندوستانی روایات میں چونکہ دنیا کی کوئ  ابتداء یا انتہا نہیں ہے۔ لہذا اس اعتبار سے جین مذہب بھی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہیگا۔ ہر دور میں وقفہ وقفہ سے ایک بعد ایک چوبیس تیر تھنکر (مصلح) پیدا ہوتے رہے اور اس کے احیاء کا کام انجام دیتے رہے۔ آخری تیر تھنکر مہاویر جین تھے، ان کے بعد اب کوئ اور مصلح نہیں آئے گا۔         تاریخی اعتبار سے اس کے ثبوت موجود ہیں کہ مہاویر جین اس مذہب کے بانی نہیں تھے۔ ہندوستان میں یہ روایت پہلے سے موجود تھی۔خود مہاویر کا خاندان بلکہ انکی پوری برادری جین مذہب کی ہی پیرو تھی۔ مہاویر نے تو سنیاس کے ذریعہ جین مذہب کے مقصد اعلی کو حاصل کیا اور اس مذہب کے سربراہ بن گئے۔ مہاویر نے اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں جین مت میں جو اصلاحات کیں، اور اس کی اشاعت اور استحکام کے لئے بحیثیت آخری تیر تھنکر جو اقدامات کئے، اسکی بنا پر مہاویر کو وہ اہم مقام حاصل ہوا کہ وہی اس مذہب کے بانی سمجھے جانے لگے۔          مہاویر جین مشرقی ...

ہندومت

 دنیا کے جن علاقوں میں  انسانی تہذیب و تمدن نے سب سے پہلے پھلنا پھولنا شروع کیا، ان میں ہندوستان بھی ایک خطہ آرہا ہے، چونکہ آریوں سے پہلی کی مذہبی روایات کے سلسلے میں کوئی قابل اعتماد معلومات نہیں ملتی ہیں، موہن جودا ڑو اور ہڑپہ کی کھدائی میں جس تہذیب و تمدن کے آثار ملے ہیں، وہ اگرچہ آر یوں  سے قبل کی ہے، مگر  آثار  میں ملنے والی زبان سے کوئی خاص معلومات  نہیں حاصل ہو پائیں ہیں، اسی ،لیے اس کے بارے میں معلومات بھی محدود ہیں یہی وجہ ہے کہ آریوں کی آمد کے ساتھ ہی جو مذہبی روایات یہاں، یعنی ہندوستان میں متعارف ہوئیں،  وہیں سے ہندوستانی مذاہب پر کوئی قابل اعتبار گفتگو کی جا سکتی ہے،  لہذا ہم نے بھی ہندوستانی مذاہب کا ذکر وہی سے شروع کیا ہے ہندستان چونکہ ایک قدیم  ملک  ہے، لہذا اس کی قدیم مذہبی روایات  کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، برہمنی مت اور ہندو مت ۔ بر ہمنی مت کا مطلب وہ روایات ہیں جن کا آغاز ہندوستان میں آریوں کی آمد کے بعد یعنی (تقریبا ۱۵۰۰ قبل مسیح ) سے لے  کر بدھ اور جین کی عام اشارے تک  رہا یعنی (تقریبا ۴۰۰ق م...

رامائن اور ‏مہابھارت ‏کا ‏زمانہ۔

         ۵۰۰ قبل مسیح کے قریب ویدک دور کے ختم ہو نے سے لیکر (۴۰۰ عیسوی) تک کے دور کو رزمیہ نظموں یا رامائن اور مہابھارت کا زمانہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ دور اپنی سیاسی، معاشرتی اور مذہبی خصوصیات کے لحاظ سے ویدک دور سے کافی مختلف اور ممتاز نظر آتا ہے۔اس رزمیہ نظموں کے دور میں ویدک عہد سے مختلف آریائ سماج اور بدلی ہوئ برہمنی روایات کا وجود ملتا ہے۔اس دور کے سماج اور مذہبی رجحانات کا صحیح اور واضح اندازہ انکی دو رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت سے بخوبی ہو سکتا ہے، یعنی اس دور کے معاشرتی اور مذہبی مطاکے لئے یہ دونوں نظمیں اہم ترین ماخذ ہیں۔

شیو مت

       شیو کے بارے میں خیال ہیکہ یہ ہندوستان کے قدیم ترین دیوتاؤں میں سے ہیں۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب سے متعلق کو آثار قدیمہ ملے ہیں ان میں ایسی مہریں ملی ہیں جن پر شیو کی خصوصیات رکھنے والے ایک دیوتا کی شبیہہ نقش ہے۔اس بنا پر سمجھا گیا ہیکہ شیو یا اس سے ملتے ملتے ایک دیوتا کی پرستش آج سے ساڑھے پانچ ہزار سال قبل بھی ہندوستان میں ہوتی تھی۔ ابتدائ ویدک ادب کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ آریہ بھی اپنے ساتھ ہندوستان میں ایک ایسے دیوتا کا تصور لے کر آئے تھے۔جس کی خصوصیات بہت حد تک قدیم ہندوستانی دیوتا شیو سے ملتی جلتی تھیں۔ کو"ردر" کے نام سے مشہور تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آریوں اور ہندوستان کے قدیم باشندوں کے باہمی اختلاط کے نتیجہ میں محسوس کیا گیا کہ "ردر" اور ہندوستان کا شیو ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں۔ یہی وجہ تھی کے ویدک دور کے آخر میں" ردر شیو" نام کا ایک دیوتا منظر عام پر ملتا ہے۔ جس میں شیو اور ردر کی شخصیتیں جذب کو گئ ہیں، اور کو دونوں کے خصوصیات کا حامل ہے۔ ویدک ادب سے گزر کر جب رزمیہ نظموں کا دور آیا تو مہابھارت میں پہلی بار شیو اپنی الگ خصوصی...

وشنو مت

         ابتدائ ویدک ادب میں وشنو ایک اہم اہمیت والے دیوتا کی حیثیت سے سامنے آیا، اپنی اصلیت کے لحاظ سے یہ ایک آرین دیوتا ہے۔  ویدک دور کے آخر میں وشنو کی اہمیت بتدریج بڑھنے لگی تھی، یہاں تک کہ ویدک دور کے آخر تک وہ خدائے مطلق کا مقام حاصل مت چکا تھا۔           وشنو کی مقبولیت کی تاریخ میں دوسرا اہم موڑ اس وقت آیا کہ جب وشنو کو کرشن واسو دیو کی شخصیت سے ملا دیا گیا، اور پھر تیسری صدی قبل مسیح تک وشنو نارائن جو ۵۰۰  قبل مسیح سے پہلے کا ایک دیوتا ہے۔ اور کرشن واسو دیو کو ایک دیوتا تسلیم کر لیا گیا۔ کرشن واسو دیو ایک غیر آریائ قوم یا دو قبائلی دیوتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یادوؤں کے علاوہ دوسرے ہندوستانی عوام بھی کرشن واسو دیو کے حلقۂ اثر میں آتے جارہے تھے۔ وشنو نارائن اور کرشن واسو دیو کا انضمام دونوں فریقوں کے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔ برہمنی مت جو بدھ مت اور جین مت کی عوامی مقبولیت سے پریشان ہو کر عوام میں رسوخ حاصل کرنے کے لئے بے چین تھا، اسے کرشن واسو دیو میں ایک ایسا عوامی دیوتا مل گیا جسے وشنو کے اوتار ک...

رامائن

رامائن ایک شخصیت یعنی رسم چندر جی اور ان سے متعلق لوگوں کے بارے میں ایک مربوط قصہ ہے۔ مہابھارت کے مقابلہ میں یہ زیادہ ترقی یافتہ، مذہب اور با اخلاق معاشرہ کی عکاسی کرتی ہے، اسی لئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ رامائن کے مرکزی واقعات مہابھارت کے بعد کے دور سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن عام طور پر رامائن کو مہابھارت کے مقابلہ میں زیادہ قدیم تصویر کیا جاتا ہے۔ مختصرا یہ کہا جائے سکتا ہیکہ مہابھارت اور رامائن، دونوں ہی شاہکار آریہ اور غیر آریہ ہندستانی عناصر کی آمیزش سے ابھرتے ہوئے اور برہمنی مت کے زیر سایہ پرسان چڑھتے ہوئے ، ہندو مذہب کے ابتدائ دور کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ یعنی ہندو مذہب کے ارتقاء کے ایک ہی دور کی داستان سناتے ہیں۔ مہابھارت اور رامائن اس وقت وہ سب سے قدیم اور اہم مانا ہیں جن میں ہندو مت کے اہم فرقوں مثلا" "وشنومت" "شیومت" اور شکتی مت، کے علاوہ دیگر بہت سے دیوی دیوتاؤں کا واضح اور بھر پور تذکرہ ۔لتا ہے۔ مہابھارت کا ہی ایک حصہ اس مشہور ومعروف فلسفیانہ وعظ پر مشتمل ہے جو بھگوت گیتا کے نام سے مشہور ہے۔ بھگوت گیتا، جس کو شری کرشن جی کے بیاں کے پیرایہ می...

نئے ‏دیوی ‏دیوتاؤں ‏کا ‏ظہور

دیدک دور کے بر عکس، جس میں کائنات کی فطری اوروں سے متعلق مختلف دیوی دیوتا اہمیت رکھتے ہیں۔ مہابھارت اور رامائن میں کچھ نئے دیوی دیوتا مذہبی زندگی پر چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جیسے " شیو اور وشنو کو ، تری مورتی، کے نام سے بھی ہمارا جاتا ہے۔           برما اور وشنو اگر چہ ویدک ادب میں بھی مذکور ہیں۔ مگر مہابھارت اور رامائن میں انکی حیثیت میں نمایاں تبدیلیاں ملتی ہیں۔ برہما، جسے ویدک ادب کے آخری دور میں سب سے عظیم دیوتا کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔رامائن اور مہابھارت میں صرف کائنات کی تخلیق کے ذمہ دار دیوتا کی حیثیت رکھتا ہے۔ وشنو اور شیو کے مقابلہ میں برہما اپنا ویژن بدستور کھوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ عوام کی عقیدت کے اصل مرکز اور مذہبی عظمت کے اصل حقدار وشنو اور شیو چمکتے رہ جاتے ہیں۔       ،تری مورتی، کے تصور میں اگر " برہما"  کائنات کی تخلیق کا ذمہ دار ہے تو کائنات کی بقاء اور پرورش کی ذمہ داری وشنو کے سر ہے۔جس کی شخصیت کی تصور میں جمال کا پہلو غالب  معلوم ہوتا ہے۔        شیو اپنی وفات کے لحاظ سے دیوتا ہے...

ہندوستان میں بدھ مت کی ترقی اور اس کا زوال

  بدھ مت میں بعد کے دور میں کچھ اعتقادی تبدیلیاں عمل میں آئیں۔ ان میں سب سے اہم تبدیلی یہ تھی کہ بدھ کو الوہیت کا درجہ دیا گیا۔ (۱)  مہایان ( شمالی بدھ مت) (۲) ہنایان (جنوبی بدھ مت) کو خاص اہمیت حاصل ہوئ۔مہایان گروہ نے بدھ کو آدم بدھ کا درجہ دیا جو بدھوں میں سب سے اول سب سے زیادہ طاقتور اور یکتا ہے۔ لیکن ہنایان گروہ خود گوتم بدھ کا خدا درجہ دیدیا۔ مہایان فرقہ ابتدا سے ایک توحیدی مذہب تھا جو تمام دیوی دیوتاؤں کو ایک بالاتر طاقت کا محکوم قرار دیتا تھا اور خدا کو علت العلل اور کائنات کا اصول اول قرار دیتا تھا۔ اس اصول کے مطابق علت کو دھرم کایا کے نام سے موسوم کیا گیا جو قانون کے ہم معنی ہے۔ مہایان بدھ مت کے نظریہ کی رو سے یہ قانون دھرم کایا گوتم بدھ کی صورت میں مجسم ہوا اور گوتم بدھ انسانوں کے ساتھ متحد اور تمام انسان ان کے اندر متحد ہیں۔       بدھ مذہب میں کیونکہ تعلیمات عوامی زبان میں تھیں اس لئے انہیں سب لوگ سمجھ سکتے تھے۔ اس کے بر خلاف برہمنی مذہب کی تعلیمات سنسکرت میں تھیں۔ جنہیں لوگ نہیں سمجھ سکتے تھے۔ دوسرے یہ کہ مہاتما بدھ نہایت مخلص شخص تھے اور سب کی بھلا...

جین مت کا ‏ارتقاء ‏اور ‏فرقہ ‏بندی۔

     مہاویر جین کے انتقال کے بعد ان کے جانشینوں نے ان کے تبلیغی جذبہ کو زندہ رکھا اور جلد ہی جین مت اجین اور منڈ اسر تک پہنچ گیا۔ ان کے جانشینوں نے شمال میں نیپال اور جنوب میں میسور کا سفر کیا اور وہاں جین مت کا ایک مرکز قائم کیا۔ اسی کے بعد جنوبی ہندوستان میں جین مت کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا۔ مشرق میں اڑیسہ کے حکمران راجہ کھارومل نے جین مت قبول کرنے کے بعد جین مت کی اشاعت میں بھر پور تعاون دیا۔ اشوک کے پوتے راجہ سمپراتی نے جین مت کی ترقی میں وہی سرگرمی دکھائ جو اس کے دادا اشوک نے بدھ مت کی ترقی میں دکھائ تھی۔              پہلی صدی قبل مسیح میں مشرقی ہندوستان کے مقابلہ میں جین مت مغربی ہندوستان میں کلک آچاریہ کے ذریعہ فروغ پانے میں کامیاب ہو گیا۔ شمال میں مسلم حکومت کے قیام کے وقت تک جنوبی ہندوستان میں جین مت کے عروج کا دور رہا۔ ساتویں صدی کے بعد جینی اثر جنوب مغرب سے گجرات میں داخل ہو کر ترقی کرتا ہوا راجستھاں میں داخل ہو پھلا پھولا۔ اس دور میں جین مت کے وہ رہنما پیدا ہوئے جن کے ذریعہ جین مت کے مذہبی، فکری اور روحانی ارتقاء...

سکھ مت۔

          خدائے واحد کی عقیدت ومحبت کے ساتھ پرستش کی روایت ہندوستان میں بہت قدیم ہے۔ آٹھویں صدی قبل مسیح کے آس پاس سری کرشن نے واسودیو کی پرستش کی صورت میں جس مذہب کی تبلیغ کی تھی، وہ یہی بھگتی کا مسلک تھا۔ دوسری صدی قبل مسیح کے لگ بھگ  بھگوت گیتا میں پہلی بار بھگتی مت کو ایک مستقل اور منظم مسلک عبودیت کے طور پر ضابطۂ تحریر میں لایا گیا، اس زمانہ میں اس تحریک میں ایسے بہت سے روحانی بزرگ پیدا ہوئے جو خدائے واحد کے لئے بہت سے ہندی اصطلاحات والے نام جیسے رام، ہری اور سوامی،  وغیرہ کا استعمال تو کرتے تھے لیکن اس سے مراد خالق کائنات کی ذات ہی تھی۔             عہد وسطی کی پوری بھگتی تحریک، ہندوستانی اور اسلامی تہذیب وتمدن کے لین دین اور میل ملاپ سے ایک ایسے انقلابی نتیجہ تک پہنچ گئ جو ہندوستانی معاشرہ کی مذہبی زندگی کے لئے بہتر ثابت ہوا۔ ہندو مت اور اسلام دونوں کے مذہبی رہنماؤں نے ظاہری رسومات اور تعلیمات کو حقیقت اعلی تک پہنچنے میں رکاوٹ گردانتے ہوئے اس تعلیم پر زور دیا کہ ذات خدا وندی کا عرفان انسان کے اپنے جذبۂ اخلاص اور خ...