نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ہندوستان میں بدھ مت کی ترقی اور اس کا زوال

  بدھ مت میں بعد کے دور میں کچھ اعتقادی تبدیلیاں عمل میں آئیں۔ ان میں سب سے اہم تبدیلی یہ تھی کہ بدھ کو الوہیت کا درجہ دیا گیا۔ (۱)  مہایان ( شمالی بدھ مت) (۲) ہنایان (جنوبی بدھ مت) کو خاص اہمیت حاصل ہوئ۔مہایان گروہ نے بدھ کو آدم بدھ کا درجہ دیا جو بدھوں میں سب سے اول سب سے زیادہ طاقتور اور یکتا ہے۔ لیکن ہنایان گروہ خود گوتم بدھ کا خدا درجہ دیدیا۔ مہایان فرقہ ابتدا سے ایک توحیدی مذہب تھا جو تمام دیوی دیوتاؤں کو ایک بالاتر طاقت کا محکوم قرار دیتا تھا اور خدا کو علت العلل اور کائنات کا اصول اول قرار دیتا تھا۔ اس اصول کے مطابق علت کو دھرم کایا کے نام سے موسوم کیا گیا جو قانون کے ہم معنی ہے۔ مہایان بدھ مت کے نظریہ کی رو سے یہ قانون دھرم کایا گوتم بدھ کی صورت میں مجسم ہوا اور گوتم بدھ انسانوں کے ساتھ متحد اور تمام انسان ان کے اندر متحد ہیں۔

      بدھ مذہب میں کیونکہ تعلیمات عوامی زبان میں تھیں اس لئے انہیں سب لوگ سمجھ سکتے تھے۔ اس کے بر خلاف برہمنی مذہب کی تعلیمات سنسکرت میں تھیں۔ جنہیں لوگ نہیں سمجھ سکتے تھے۔ دوسرے یہ کہ مہاتما بدھ نہایت مخلص شخص تھے اور سب کی بھلائ چاہتے تھے۔ اس کے بر خلاف برہمنی مذہب میں طبقاتی تقسیم تھی۔  بدھ مذہب میں برہمن، چھتری، ویش اور شورد سب کو برابر کا درجہ دیا گیا تھا۔اس لئے بدھ مذہب نے بہت جلد ترقی کی۔اس کے علاوہ ہندوستان کے مشہور راجہ اشوک نے بدھ مذہب قبول کر لیا تھا اور اس نے اپنا تمام خزانہ بدھ مذہب کی تبلیغ کے لئے وقف کر دیا تھا چنانچہ اسی کے زمانہ میں بدھ مذہب چین، جاپان، برما، سیام، تبت، منگولیا، کوریا، لنکا، منچوریا، ویت نام، تھائ لینڈ وغیرہ تک پھیل گیا تھا۔ بعد میں بدھ مذہب میں نفس کشی، ترک دنیا اور اہنسا پر غیر معمولی اور دیا جانے لگا۔اور بھیک کی روزی، سب سے زیادہ پاک روزی سمجھی جانے لگی۔ اور خدا کا تصور واضح نہ ہونے کی وجہ سے خود مہاتما بدھ ہی کی پوجا ہونے لگی۔ جب اچںھے لوگوں نے ترک دنیا پر عمل کرنا ، شروع کر دیا تو سارا نظام خراب لوگوں کے ہاتھوں میں آگیا۔ ان باتوں کا سوسائٹی پر برا اثر پڑنے لگا۔ اور بدھ مت سے لوگوں میں دلچسپی کم ہونے لگی اس سے فائدہ اٹھاکر برہمنوں نے بدھ مذہب کی مخالفت بڑی شدت سے شروع کر دی، ان کے مندروں کو توڑ ڈالا اور بدھ مذہب کے ماننے والوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ ہو کہ ہندوستان میں اس مذہب کے ماننے والے بہت ہی کم رہ گئے۔ ہندوستان میں ۱۲۰ء میں کنشک تخت پر بیٹھا اس نے مہاتما بدھ کو اوتار مان لیا اور اہنسا کو اپنے مذہب میں داخل کر لیا اور لوگوں کو گوتم بدھ کی مورتی پوجنے پر آمادہ کر لیا۔
( بحوالہ دنیا کے بڑے مذاہب صفحہ نمبر ۱۰۵)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جین ‏مت

    جین مت کے اپنے عقیدہ کے مطابق، یہ ایک ابدی مذہب ہے، جو ہمیشہ سے چلا آرہا ہے۔ ہندوستانی روایات میں چونکہ دنیا کی کوئ  ابتداء یا انتہا نہیں ہے۔ لہذا اس اعتبار سے جین مذہب بھی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہیگا۔ ہر دور میں وقفہ وقفہ سے ایک بعد ایک چوبیس تیر تھنکر (مصلح) پیدا ہوتے رہے اور اس کے احیاء کا کام انجام دیتے رہے۔ آخری تیر تھنکر مہاویر جین تھے، ان کے بعد اب کوئ اور مصلح نہیں آئے گا۔         تاریخی اعتبار سے اس کے ثبوت موجود ہیں کہ مہاویر جین اس مذہب کے بانی نہیں تھے۔ ہندوستان میں یہ روایت پہلے سے موجود تھی۔خود مہاویر کا خاندان بلکہ انکی پوری برادری جین مذہب کی ہی پیرو تھی۔ مہاویر نے تو سنیاس کے ذریعہ جین مذہب کے مقصد اعلی کو حاصل کیا اور اس مذہب کے سربراہ بن گئے۔ مہاویر نے اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں جین مت میں جو اصلاحات کیں، اور اس کی اشاعت اور استحکام کے لئے بحیثیت آخری تیر تھنکر جو اقدامات کئے، اسکی بنا پر مہاویر کو وہ اہم مقام حاصل ہوا کہ وہی اس مذہب کے بانی سمجھے جانے لگے۔          مہاویر جین مشرقی ...

جین مت کے پانچ بنیادی عہد

          (۱) اہنسا، (عدم تشدد)  (۲) ستیہ، (راست گفتاری) (۳) استیہ، (چوری نہ کرنا) (۴) برہمچریہ ( پاک دامنی) (۵) اپری گرہ (دنیا سے بے رغبتی)۔ ان پانچ بنیادی عہدوں کے علاوہ گھر بار رکھنے والے جینیوں کو سات اور عہد کرنے ہوتے ہیں، جو انہیں بنیادی عہدوں پر عمل کرنے مین معاون ہوتے ہیں۔          جین مت میں وہ جماعت جو جین سنگھ کہلاتی ہے، اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہوتے ہیں۔ مردوں کو سادھو اور عورتوں کو سادھوی کہا جاتا ہے۔ دونوں کو برہمچریہ کی بہت سخت پابندی کرنی ہوتی ہے۔ مردوں اور عورتوں کی جماعتیں کے نظام الگ الگ ہوتے ہیں۔ سنیاس کی ابتداء جین مت کے پانچ بنیادی عہدوں کی شکل میں لینے سے ہوتی ہے۔ پھر تمام دنیا سے ناطہ توڑ کر بے رغبتی کے ساتھ چند ضروری چیزوں کے علاوہ سب کچھ چھوڑ دینا پڑتا ہے۔ مرد سادھو بغیر سلے تین کپڑے اور عورتوں کو چار کپڑے پہننے کی اجازت ہے۔ یہ اجازت بھی صرف شؤتامبر فرقہ کے سادھوؤں کو حاصل ہے۔ اس لئے کہ دگامبر فرقہ کے سادھو تو بالکل ننگے رہتے ہیں اس فرقہ میں عورتوں کو سنیاس لینے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے ع...

Jainism

According to Jainism's own belief, it is an eternal religion, which has always existed. In Indian traditions since the world has no beginning or end. Therefore, in this sense, Jainism has always been and always will be. In each era, from time to time, twenty-four arrow thinkers (reformers) were born and worked to revive it. The last arrow was Thinker Mahavir Jain, after him no other reformer will come.         There is historical evidence that Mahavira Jain was not the founder of this religion. This tradition already existed in India. Mahavira's own family and even his entire community were followers of Jainism. Mahavira achieved the highest goal of Jainism through Sanyas and became the head of this religion.Mahavira's reforms in Jainism in the light of his experiences and observations, and the steps he took as the last arrow-thinker for its publication and consolidation, gave Mahavira the important position to be considered ...