نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

شکوہ جواب شکوہ

شکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تونے۔
ہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تونے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Jainism

According to Jainism's own belief, it is an eternal religion, which has always existed. In Indian traditions since the world has no beginning or end. Therefore, in this sense, Jainism has always been and always will be. In each era, from time to time, twenty-four arrow thinkers (reformers) were born and worked to revive it. The last arrow was Thinker Mahavir Jain, after him no other reformer will come.         There is historical evidence that Mahavira Jain was not the founder of this religion. This tradition already existed in India. Mahavira's own family and even his entire community were followers of Jainism. Mahavira achieved the highest goal of Jainism through Sanyas and became the head of this religion.Mahavira's reforms in Jainism in the light of his experiences and observations, and the steps he took as the last arrow-thinker for its publication and consolidation, gave Mahavira the important position to be considered ...

وشنو مت

         ابتدائ ویدک ادب میں وشنو ایک اہم اہمیت والے دیوتا کی حیثیت سے سامنے آیا، اپنی اصلیت کے لحاظ سے یہ ایک آرین دیوتا ہے۔  ویدک دور کے آخر میں وشنو کی اہمیت بتدریج بڑھنے لگی تھی، یہاں تک کہ ویدک دور کے آخر تک وہ خدائے مطلق کا مقام حاصل مت چکا تھا۔           وشنو کی مقبولیت کی تاریخ میں دوسرا اہم موڑ اس وقت آیا کہ جب وشنو کو کرشن واسو دیو کی شخصیت سے ملا دیا گیا، اور پھر تیسری صدی قبل مسیح تک وشنو نارائن جو ۵۰۰  قبل مسیح سے پہلے کا ایک دیوتا ہے۔ اور کرشن واسو دیو کو ایک دیوتا تسلیم کر لیا گیا۔ کرشن واسو دیو ایک غیر آریائ قوم یا دو قبائلی دیوتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یادوؤں کے علاوہ دوسرے ہندوستانی عوام بھی کرشن واسو دیو کے حلقۂ اثر میں آتے جارہے تھے۔ وشنو نارائن اور کرشن واسو دیو کا انضمام دونوں فریقوں کے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔ برہمنی مت جو بدھ مت اور جین مت کی عوامی مقبولیت سے پریشان ہو کر عوام میں رسوخ حاصل کرنے کے لئے بے چین تھا، اسے کرشن واسو دیو میں ایک ایسا عوامی دیوتا مل گیا جسے وشنو کے اوتار ک...

سکھ مت۔

          خدائے واحد کی عقیدت ومحبت کے ساتھ پرستش کی روایت ہندوستان میں بہت قدیم ہے۔ آٹھویں صدی قبل مسیح کے آس پاس سری کرشن نے واسودیو کی پرستش کی صورت میں جس مذہب کی تبلیغ کی تھی، وہ یہی بھگتی کا مسلک تھا۔ دوسری صدی قبل مسیح کے لگ بھگ  بھگوت گیتا میں پہلی بار بھگتی مت کو ایک مستقل اور منظم مسلک عبودیت کے طور پر ضابطۂ تحریر میں لایا گیا، اس زمانہ میں اس تحریک میں ایسے بہت سے روحانی بزرگ پیدا ہوئے جو خدائے واحد کے لئے بہت سے ہندی اصطلاحات والے نام جیسے رام، ہری اور سوامی،  وغیرہ کا استعمال تو کرتے تھے لیکن اس سے مراد خالق کائنات کی ذات ہی تھی۔             عہد وسطی کی پوری بھگتی تحریک، ہندوستانی اور اسلامی تہذیب وتمدن کے لین دین اور میل ملاپ سے ایک ایسے انقلابی نتیجہ تک پہنچ گئ جو ہندوستانی معاشرہ کی مذہبی زندگی کے لئے بہتر ثابت ہوا۔ ہندو مت اور اسلام دونوں کے مذہبی رہنماؤں نے ظاہری رسومات اور تعلیمات کو حقیقت اعلی تک پہنچنے میں رکاوٹ گردانتے ہوئے اس تعلیم پر زور دیا کہ ذات خدا وندی کا عرفان انسان کے اپنے جذبۂ اخلاص اور خ...